پندرہ ساہیوال گائیوں کی مِلک ریکارڈنگ ہوچکی ہے۔ ان کے دودھ کا ریکارڈریڈ گولڈ کلب میں درج ہے ۔ ان کے علاوہ جن حضرات کے پاس ایسی گائیں ہوں جو بیس لیٹر سے زیادہ یومیہ دودھ دینے کی صلاحیت رکھتی ہوں ان کو مزید  15اپریل تک کا وقت دیا جاتاہے کہ وہ اپنی گائیوں کی ادارہ ہذا سے رجسٹر یشن کرواکران کےددودھ کی ریکارڈنگ حکومت کی مقرر کردہ کمیٹی سے کروالیں۔ جن گائیوں کا  یومیہ دودھ بیس کلو یااس سے زیادہ ہوگا۔ یہ قومی گائیں کہلائیں گی ۔ اور پہلی بیس گائیوں کو مبلغ   -/ 20،000 روپے  اعزازیہ سے نوازا جائے گا۔

ساہیوال کیٹل بریڈرز سوسائٹی  پنجاب  پاکستان نے ساہیوال کیٹل بریڈرز میلہ وٹو فارم جہانگیرآباد پر

15-04-2010

کو  منقعد کروایا۔

سیکرٹری لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ گورنمنٹ پنجاب نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔

----------

مشن:

ملکی اوربین الاقوامی ڈیمانڈ پوری کرنے کے لیے ساہیوال نسل کو تیار کرنا۔

ساہیوال نسل کے تاریخی سنگ میل:

سردار جہانگیرخان وٹو نے چارسو گائے سے کچا کھوہ میں فارمنگ شروع کی ۔

-1915

چوہدری اللہ داد واہلہ نے جہانیاں میں ابتدائی کام شروع کیا۔

-1917

منٹگمری میں دتار سنگھ فارم کا آغازہوا۔  

-1920

گاؤں پال سکیم کا آغاز چھ چکوک(رینالہ خورد) میں کیا گیا۔

-1923

دس سالہ ساہیوال سکیم کا آغازہوا۔

-1938

شاہ جیونہ کیٹل فارم کا آغازہوا۔

-1956

بہادر نگر میں ساہیوال گائے کی بریڈنگ شروع ہوئی۔

-1962

فاضل پور فارم ضلع راجن پور میں شروع ہوا۔

-1973

کلورکوٹ ضلع بھکر میں ساہیوال گائے پر کام شروع ہوا۔

-1979

خضر آباد ضلع سرگودھا میں ساہیوال گائے پر کام شروع ہوا۔

-1980

باقاعدہ پراجنی ٹیسٹنگ شروع ہوئی۔

-1984

بین الاقوامی تحقیق اقوام متحدہ کے ذریعے مکمل ہوئی۔

-1998

جھنگ میں ادارہ برائے تحفظ ساہیوال گائے کا آغاز ہوا۔

-2004

ساہیوال کیٹل بریڈ:

* یہ نسل گلوبل اثاثہ ہے اور ۲۹ممالک میں پائی جاتی ہے ۔

* سخت موسمی حالات میں  اچھی پیداوار کی ضامن ہے

* ٹراپیکل بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت رکھتی ہے ۔

* سخت گرمی اور چیچڑیوں کے خلاف مدافعت رکھتی ہے ۔