ساہیوال کیٹل بریڈرز سوسائٹی  پنجاب  پاکستان نے ساہیوال کیٹل بریڈرز میلہ وٹو فارم جہانگیرآباد پر

15-04-2010

کو  منقعد کروایا۔

سیکرٹری لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ گورنمنٹ پنجاب نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔

----------

تعارف

ساہیوال گائے اپنی نسلی خصوصیات کی وجہ سے دنیا بھر میں خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ پیداواری لحاظ سے گرم ممالک میں پائی جانے والی گائے کی نسلوں میں یہ اعلیٰ ترین ہے ۔ موسمی سختیاں برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ اس میں چیچڑیوں اور دوسری بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت زیادہ ہے ان خصوصیات کی بنا ء پر بیرونی دنیا میں اہم مقام رکھتی ہے ۔ گزشتہ صدی کے شروع میں حکومت برطانیہ نے جب نہر لوئر باری دو آب کا آغاز کیا تو ساتھ ہی ساہیوال نسل کی ترقی کے لیے کچھ پرائیویٹ فارم بنائے۔جن میں 1915ء میں ضلع ملتان میں جہانگیر آباد، 1917ء میں ضلع ملتان میں ہی اللد داد فارم جہانیاں،اور 1920ء میں ضلع ساہیوال (منٹگمری) میں دتار سنگھ فارم شامل ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی منٹگمری کیٹل بریڈنگ سکیم شروع کرد ی گئی جس کے تحت ساہیوال نسل کے سانڈھ تحصیل دیپالپور میں دیے گئے ۔ مزید نسل کشی کے لیے لاہور میں ملٹری ڈیری فارمز پر ایک ساہیوال نسل کا فارم کھولا گیا ۔ یہی پرائیویٹ فارمز ساہیوال نسل کی گائے کی ترقی کا باعث بنے ۔بعد میں ان فارموں پر گورنمنٹ نے خصوصی توجہ دی اور مزید نسلی ترقی کے لیے فارم بنائے جن میں 1962ء میں بہادر نگر ، 1973ء راجن پور، 1980ء میں کلورکوٹ شامل ہیں۔ اس نسل کی ترقی کے لیے پچھلی صدی میں پرائیویٹ سیکٹر مین جہانگیر آباد اور اللہ داد فارمز کا کردار نمایاں اہمیت کا حامل رہاہے ۔

پچھلی دو دہائیوں سے ساہیوال گائے کی تعداد کم سے کم ہوتی جارہی ہے ۔عالمی ادارہ خوراک و زراعت کے ایک سروے کے مطابق اصلی ساہیوال نسل کی گائیوں کی تعداد 1987ء میں صرف دس ہزار رہ گئی تھی ۔کمی بڑی وجہ کراس بریڈنگ تھی ۔ حکومت پنجاب کے سرکاری فارموں پر موجود   دوہزار ساہیوال گائیں کسی بھی نسلی بہتری کے جائزہ کے لیے بہت کم ہیں بلکہ ایک تحقیق کے مطابق ان فارمز پر ان کی بریڈنگ کے شرح میں اضافہ ہوا ۔ چونکہ فنڈز کی کمی کے باعث گورنمنٹ سیکٹر میں مزید فارم بنانا ممکن نہیں تھالہٰذا محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ حکومت پنجاب نے فیصلہ کیا کہ پرائیویٹ سیکٹر کوساتھ ملایا جائے ۔1999ء میں محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ نے مال شماری کرائی جس کی بناء پر ساہیوال گائے کی تعداد جھنگ ، فیصل آباد، مظفر گڑھ، ساہیوال، اوکاڑہ ، خانیوال اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے اضلاع میں بالترتیت زیادہ پائی گئی۔ ان اضلاع میں گائیوں کی تعداد کے پیش نظر محکمہ لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ حکومت پنجاب نے ساہیوال نسل کی گائے کے تحفظ کے لیے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ شروع کیا۔ جس کا آغازمالی سال 2004-2003 ء میں ہوا۔ اب یہ اپنے اہداف اور مدت پوری کرنے کے بعد غیر ترقیاتی فیز میں آگیا ہے  مزید ترقیاتی فیز۲کاآغاز تین سال کے لیے 2009-2008سے کیا گیا ہے ۔ اس میں مزید 15اضلاع چنیوٹ ، بہاولنگر، قصور، لیہ ، بہاولپور، رحیم یار خان، سرگودھا،بھکر، ملتان، پاکپتن ، شیخوپورہ، وہاڑی، لودھراں ، ننکانہ صاحب اور حافظ آباد شامل کیے گئے ہیں۔

مقاصد:

1- ساہیوال نسل کے پہلے سے موجود فارموں کو برقرار رکھنا اور مزید ترقی دینا۔

2- پرائیویٹ اور حکومتی فارموں کے جانوروں کی رجسٹریشنکرنا۔

3- جینیاتی طورپر بہترین جانوروں کی پہچان اور چناؤ کرنا۔

4- تمام رجسٹر جانوروں کے رکھ رکھاؤ اور پیداواری صلاحیت کار یکارڈ رکھنا

5- بہترین سانڈھوں کے نتائج شائع کرنا اور ان کو توسیع دینا۔

6- نسلی صلاحیت کی بہترین اور تحفظ کے لیے تحقیق کرنا۔

7- جانوروں کی نسلی ترقی میں مشغول قومی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اشتراک کرنا۔